پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |

|

جیسا که حضرت علی علیه السلام سے منقول روایت میں هے که "عقول النساء فى جمالهنّ و جمال الرّجال فى عقولهم" یعنی عورتوں کی عقل ان کے جمال و خوبصورتی میں هوتی هے اور مردوں کا جمال ان کی عقلوں میں خلاصه هوتا هے تو کیا یه عورتوں کی مذمت اور مردوں کی افضلیت کی دلیل هے؟


اس سوال کے جواب کے لئے اس نکته پر توجه کرنا ضروری هے که انسان کی روح کا زیور اس کا ایمان هے نه که کوئی دوسری چیز، جیسا که خدوندعالم فرماتا هے: (حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْايمانَ و زَيَّنَهُ فى قُلُوبِكُمْ)1 خداوندعالم نے ایمان کو تمهارے لئے محبوب قرار دیا هے اور اسے تمهارے دلوں میں زینت دیا هے، اور چونکه انسان کی روح (ماده سے) مجرد هے، نه که مادی، اور ایمان بھی ایک معنوی امر هے یه معنوی امر یعنی ایمان، اس مجرد شئے یعنی انسان کی روح کے لئے باعث جمال و زیبائی هے، اور چونکه مرد هونا یا عورت هونا انسان کی حقیقت (یعنی اس کی روح و جان) میں اور اس کے ایمان میں کوئی تاثیر نهیں رکھتا یعنی حقیقت انسان اور ایمان نه تو مذکر هیں اور نه مونث، بلکه ایک مجرد شئے هیں که جس میں مرد و عورت یکساں هیں، اس بنا پر جیسا که مذکوره حدیث میں فرمایا گیا: "عقول النساء۔۔۔" اس کے حکمی معنی سمجھے جائیں نه که وصفی معنی، یعنی اس سے یه مراد نهیں هے که حدیث شریف میں انسانوں کی دو قسموں کی توصیف بیان کی گئی هے که عورت کی عقل اس کے جمال میں خلاصه هوتی هے اور اس میںایک مذمت کا پهلو پایا جاتا هو، اور ادھر مرد کا جمال اس کی عقل میں هوتا هے اور اس کی تعریف و توصیف کی گئی هو، بلکه ممکن هے که اس کے معنی حکمی هو یا توصیف اصلاحی هو، دوسرے الفاظ میں یوں کهیں که عورت پر یه فرض هے یا وه یه کام انجام دے سکتی هے که اپنی انسانی عقل و خرد کو ظرافت، احساس، گفتار و کردار کی زیبائی اور نیک اخلاق کے ذریعه دکھا سکتی هے، اور مرد پر فرض هے یا وه یه کام کرسکتا هے که اپنے هنر کو اپنی فکر و عقل کے ذریعه جلوه گر کرے۔
ایک پڑھی لکھی خاتون اور ایثار و شهادت کی تعلیم سے آگاه عورت یه کام کرسکتی هے که ماں هونے کے لحاظ سے اپنے بیٹے کو جهاد کی طرف رغبت دلائے، اور محاذ پر جاتے وقت اپنی ظریف و لطیف عقل کو ظریف هنر کی صورت میں اظهار کرے، یا اپنے اس بیٹے کے استقبال میں که جو میدان جنگ سے کامیابی حاصل کرکے پلٹا هے اپنی بهترین فکر و اندیشه کا ثبوت شوق کی زیبائی کے لباس میں پیش کرے، لیکن یه هنری ظرافتیں که جو ظریف و لطیف عقل کی عینی ثبوت هیں مردوں کی طرف سے کبھی بھی رونما نهیں هوسکتیں، خلاصه یه هے که عورت حکمت کو هنر کی صورت میں پیش کرے اور مرد اس کے برعکس هنری ظرافتوں کو حکمت و عقل کی صورت میں پیش کرے، یعنی عورت کی خوبصورتی اس کے جمال میں پوشیده هیں٬ اور مرد کا جمال اس کی عقل میں ظاهر هوتا هے، اور اس تقسیم کار میں نه تو عورت کی مذمت هے اور نه مرد کے لئےقابل مدح وستائش ، بلکه ان میں سے هر ایک کے لئے رهنمائی اور حکم هے تاکه ان میں سے هر ایک اپنے مخصوص کام میں مشغول رهے، اور اگر اپنی اپنی ذمه داری کو پورا کریں تو قابل تعریف هیں، لهٰذا اس لحاظ سے عورت و مرد میں فرق افکار و اندیشه کو صحیح طور پر پیش کرنا هے، ورنه تو عورت بھی مرد کی طرح علوم و معارف کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی هے اور قابل مدح و ثنا هے۔
ایک دوسرا مطلب که جس پر توجه رکھنا ضروری هے وه یه هے که عقل دو طرح کی هوتیں هیں: عقل نظری، و عقل عملی، انسان عقل نظری کے ذریعه سمجھتا هے اور عقل عملی کے ذریعه کام کرتا هے، یقین، ظن و گمان اور وهم و خیال اور اس کی طرح کی چیزیں، عقل نظری کے دائرے میں آتی هیں، لیکن نیت، عزم، اخلاص و اراده، محبت، تولا و تبرا، تقویٰ اور عدل وغیره عقل عملی کے دائرے میں آتے هیں،2 اور انسان میں یهی عملی عقل فضیلت و کمالات کا معیار هے، عقل نظری انسان کی اعلمیت اور عقل عملی انسان کی کرامت و فضیلت کا معیار هے٬ . (اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ اَتْقيكُمْ) 3 اور جیسا که روایت میں بیان هوا هے که «عقول النساء فى جمالهن و...» 4 (امام کا یه فرمان) عقل نظری کے لحاظ سے هے نه که عقل عملی کے لحاظ سے، یعنی اگر مرد و عورت میں عقل کے لحاظ سے کوئی فرق هے تو وه عقل نظری کے لحاظ سے هے نه که عقل عملی کے لحاظ سے۔
عقل نظری وه عقل هے که جس کے ذریعه انسان مدرسوں یا کالجوں کی تعلیم حاصل کرسکتا هے تاکه دنیوی امور کی گاڑی چلتی رهے اور یه انسان (مردوں) کی فضیلت کا معیار نهیں هے، بلکه انسان کی فضیلت کا معیار عقل عملی هے که جس کی تعریف کے سلسله میں یوں بیان هوا هے: «عُبدُ بهِ الرَّحْمنُ وَ اكْتُسِبَ بِهِ الجَنان» 5
انسان اس(عقل) کے ذریعه خدا کی عبادت کرتا هے اور اس سے بهشت حاصل کرتا هے اور قرب الٰهی کی منزل پر پهنچتا هے، چنانچه یه عقل مرد و عورت میں کوئی فرق نهیں کرتی، اس بنا پر اگر کوئی شخص مرد و عورت میں کوئی فیصله کرنا چاهے تو اسے علم اصطلاحی کے معنی میں عقل کو معیار قرار نهیں دینا چاهئے(یعنی عقل نظری کو) بلکه وه عقل عملی که جو قرب انسان کا وسیله اور فضیلت کا معیار هے اسے هی فضیلت کا معیار قرار دینا چاهئے ۔اس صورت میں مرد و عورت کا جمال اس عقل میں هوگا که جس کے ذریعه «عبد به الرحمان و اكتسب به الجنان» ٬ که جس کے ذریعه خدا کی عبادت کی جاتی هے اور جنت کو حاصل کیا جاتا هے، اور اس صورت میں مردوں کا جمال بھی ان کی عقلوں میں هوگا اور عورتوں کا جمال بھی ان کی عقلوں میں هوگا۔ 6



1. سوره حجرات، آيه 24.
2. «عقل عملى» سے یه نتیجه اور تفصیل مراد لینا بعض علماء جیسے حضرت آیت الله جوادی آملی کے لحاظ سے هے، (دیکھئے: فطرت در قرآن٬كتب تفسير موضوعى قرآن، ص30-29).لیکن بعض دیگر صاحب نظر افراد جیسے حضرت آیت الله مطهری اور آیت الله مصباح یزدی بلکه مشهور فلاسفه فارابی اور ابن سینا اس نظریه کی تائید کرتے هیں که انسان میں عقل ایک ایسی طاقت هے که جو درک کرنے والی طاقت هے، لیکن مطلق ادراک کے لحاظ سے عقل نظری اور عقل عملی پرتقسیم هوتی هے، اور وه قوت کی حالت که جو همارے هونے یا نه هونے سے تعلق رکھتی هے اور کائنات کے حقائق کے سلسله میں نظر رکھتی هے اسے"عقل نظری" کها جاتا هے، لیکن عقل کی وه حالت که جو حلال و حرام سے متعلق هے اورانسان کی رفتار و گفتار کے سلسله میں نظر رکھتی هے اسے "عقل عملی" کها جاتا هے٬(دیکھئے: فلسفه اخلاق مصباح يزدى؛ ده گفتار استادمطهرى ص46).
3. سوره حجرات، آيه 13.
4. بحارالأنوار ج 103، ص 224.
5. اصول كافى، ج 1، باب 1، 11.
6. اس سوال کا جواب كتاب "زن در آئينه جلال و جمال" تأليف حضرت آيت الله جوادى آملى سے اقتباس کیا گیا هے، صفحات 36 - 32 و 288 - 255.



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
8+6 =