پہلا صفحہ | کتاب خانہ | مقالے | نقد شبہات | سوال و جواب | نظريات | علماء | ھدايت يافتہ | مناظرات | گیلری |


|


الشیخ احمد امین انطاکی


گروہ ترجمہ سایٹ صادقین


شیخ احمد امین انطاکی بن احمد بن یوسف بن علی بن قبنر الھزة، عینصو گاؤں میں ۱۳۱۱ھ میں پیدا ھوئے عینصو دو کلمہ سے مل کر بنا ھے عین عربی لفظ ھے صو ترکی لفظ ھے اس کے معنی ھیں بھت زیادہ پانی اس گاؤں کا نام عینصو اس لئے پڑا کہ اس علاقہ میں پانی کثرت سے پایا جاتا ھے اور خیر و خیرات طبیعی بھت زیادہ ھے ۔
شیخ احمد سنی شافعی گھرانہ میں پیدا ھوئے اور اپنے والد کے ھاتھوں ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔

تعلیمی دورۂ حیات

اپنے بھائی محمد مرعی انطاکی مولف کتاب ( لماذ اخترت مذھب الشیعہ ) میں شیعہ کیوں ھوا ۔ کی طرح شافعی مذھب پر تربیت کی اور اپنے شافعی والد سے علم حاصل کیا پھر گاؤں کے رجب نامی ایک عالم کے پاس جانے لگے، ابتدائی نحو و صرف وغیرہ کا علم ان سے حاصل کیا، جس کے بعد انطاکیہ شھر کا رخ کیا ۔ اور شیخ احمد الطویل نامی عالم کے پاس شاگردی کی، اس کے بعد اپنے بھائی کے ساتھ شیخ سعید العرقی کے پاس علم حاصل کیا کچھ سال گزرنے کے بعد قبلۂ علم، کعبۂ معرفت ازھر شریف جانے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنا علمی سفر طے کرسکیں، اس کے بعد ارض کنانہ کا رخ کیا اور ان کے بھائی نے ازھر شریف میں داخلہ لیا ۔
شیخ احمد انطاکی نے ازھر شریف میں بڑے بڑے علماء سے علم حاصل کیا جو فقہ، صرف، نحو و اصول میں مھارت رکھتے تھے ان اساتذہ میں محمد ابو طٰہ، شیخ محمد بخیت سابق مفتی مصر اور محمد سلموط اور شیخ حسنین تھے ۔
اس وقت شیخ ازھر کا عھدہ مرحوم محمد ابو الفضل کے پاس تھا تحصیل علم کا آخری مرحلہ طے کرنے کے بعد اپنے وطن واپسی کا فیصلہ کیا ۔ تاکہ اپنے گاؤں گھر والوں، رشتہ داروں کو علم دین سے آشنا کراسکیں، اس وقت ملک فرانس استعمار کے زیر تسلط تھا ۔

حجاز کا سفر

شیخ احمد انطاکی نے حجاز کا ارادہ کیا، انھوں نے سن رکھا تھا کہ اسلامی شریعت اس ملک میں بھترین طریقہ سے نافذ ھے ۔
سوریا میں قیام کے دوران اپنی شھرت کی وجہ سے، عبد العزیز آل سعود نے آپ کو دعوت دی کہ ملک آئین اور قاضی شرعی کا منصب سنبھالیں، لیکن جب انھوں نے وھابیوں کی بے عقلی دیکھی، دوسرے مسلمانوں کو ان کا کافر کھنا دیکھا، اس دعوت کو قبول نھیں کیا، اور سوریہ کے حلب شھر میں مقیم رھے، اس علاقہ پر بدبخت خبیث اتاتورک کا قبضہ ھوگیا تھا ۔ ان کو حلب کا مفتی مقرر کیا گیا، اور شیخ سعید العرقی رئیس مجلس اسلامی اعلی نے بھی اس کی ان کو سفارش کی ۔

مذھب شیعہ کی طرف سفر

ایک دین سے دوسرے دین یا ایک مذھب سے دوسرے مذھب کی طرف منتقل ھونے کے لئے موازنہ و مقایسہ کی ضرورت ھوتی ھے، جس کسی دین یا مذھب کی دلیلیں مضبوط، محکم، مطابق عقل و نقل ھوتی ھیں اس وقت اس دین یا مذھب ثابت و حق کی طرف منتقل ھونا، اس کو اختیار کرنا واجب ھوجاتا ھے چونکہ حجت تمام ھوچکی ھوتی ھے، یہ وہ شی تھی جو شیخ احمد کے ساتھ پیش آئی، جب ان کے لئے واضح ھوگیا کہ حق شیعہ مذھب کے ساتھ ھے، اس حقانیت کے لئے شیعہ و سنی دونوں مکتب کی دلیلوں میں موجود ھے، حالانکہ شیعہ کے خلاف، تہمت، الزام، جھوٹ، باطل، خرافات وغیرہ جیسی نسبت دی جاتی ھے جو سب کی سب بے بنیاد ھے، اندھی تقلید ناجائز تعصب کے علاوہ کچھ بھی نھیں ھے ۔
شافعی اور دیگر تمام سنی مذاھب پر شیخ احمد کو حیرت و تعجب تھا کہ یہ آپس میں خود ایک دوسرے کے خلاف اور مخالف اور خود ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ھے ان کا کہنا ھے کہ وہ اسلام کے اصل سرچشمہ سے سیراب نھیں ھوتے، شیخ احمد نے اس بات کو اپنی کتاب " فی طریقی الی التشیع " میرے شیعہ ھونے کے اسباب " میں اس طرح ذکر کرتے ھیں :
میں نے دیکھا کہ شافعی مذھب، زنا سے پیدا ھوئی بیٹی کا نکاح اس کے زانی باپ کے ساتھ جائز جانتا ھے، اس کی دلیل یہ ھے کہ اسلام میں ماء الزنا ( زنا کی وجہ سے صادر شدہ نطفہ ) کا کوئی احترام نھیں ھے اس لئے اس پانی سے خلق کیے ھوئے فرزند کو اس کے باپ سے منسوب نھیں کیا جاسکتا پس ان دونوں کے درمیان شرعا باپ بیٹی کی نسبت نھیں ھوسکتی، اس لئے ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرنا جائز ھے ۔ جب کہ امام ابو حنیفہ اس نکاح کو حرام جانتے ھیں ۔
دوسرا سبب ان کے شیعہ ھونے کا " کتاب المراجعات تالیف علامہ شرف الدین العاملی ھے ۔ جب ان کی نگاہ اس کتاب پر پڑی اس کو ہاتھ میں لیکر اس کے صفحات پلٹنے لگے، بھت عجیب سا لگا اس کتاب کو تعظیم کے لحاظ سے دیکھا اور غور کیا یہ کیسی کتاب ھے، یہ کیا شی ھے، اس میں کیسی قضاوت کیسے فیصلہ ھیں، السید عبد الحسین شرف الدین قدس سرہ اور شیخ ازھر سلیم البشری ایسی اس عظمت و مقام علمی کے ساتھ ان دونوں کے ما بین کیا بات ھوئی یہ کیسی باعظمت ھستی تھی کہ ازھر شریف کے شیخ الجامعہ، عالم اسلام کی سب سے بڑی ھستی، وہ ایک شیعہ عالم دین، سے سوالات کرتے ھیں ایک ایک سوال پیش کرتے ھیں اور وہ ان کے ایک ایک سوال کا جواب دیتے ھیں۔
حالانکہ خود شیخ احمد کو جب یہ کتاب دی گئی تو اس کو جھٹک کر دور کیا تھا کہ یہ کتاب شیعوں کی گمراہ کن کتابوں میں سے ایک ھے ۔
شیخ احمد اس سلسلہ میں کھتے ھیں، میرے بھائی مرعی کو یہ کتاب ملی اور انھوں نے مجھ سے کھا کہ اس کتاب کو لو اور مطالعہ کرو، تعجب کرو اور تدبر کرو ۔ میں نے ان سے کھا کتاب کا تعلق کس فرقہ سے ھے انھوں نے جواب دیا کہ مذھب جعفری کی کتاب ھے ۔ میں نے ان سے کھا لے جاؤ مجھ سے اس کو دور رکھو مجھے اس کی کوئی ضرورت نھیں مجھ کو شیعوں سے نفرت ھے اور ان کے عقیدوں سے، میں ان کو جانتا ھوں ۔
انھوں نے کھا پڑھو، عمل مت کرنا، مطالعہ سے کیا نقصان ھوگا ۔
اس سے پھلے ھمارے ان کے درمیان، الفوعہ، ادلب، گاؤں میں گفتگو ھوچکی تھی ۔
ایک اور سبب جس کا زیادہ اثر تھا وہ کتاب ابو ھریرہ تالیف علامہ عبد الحسین شرف الدین عاملی کا مطالعہ تھا، جس میں انھوں نے بتایا کہ اسلام کی زیادہ تر روایتیں اس راوی سے نقل ھوئی ھیں جو خرافات مانند ھیں اور عقل و قرآن و سنت سے تطابق بھی نھیں رکھتیں مثلا یہ روایت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کو ایک طمانچہ مارا جس سے اس کی آنکھ پھوٹ گئی ۔
اور یہ روایت کہ حضرت موسی علیہ السلام، قوم بنی اسرائیل کے درمیان برھنہ پھرتے تھے ۔
اور یہ روایت کہ اللہ نے آدم کو اپنی شکل پر بنایا تھا ۔ اس کے علاوہ بھت ساری روایتیں علامہ شرف الدین کی یہ باارزش کتاب قاری کو پتہ دیتی ھے کہ کس طرح ابوھریرہ جو رسول اللہ کے ساتھ تین سال یا اس سے کچھ زیادہ تھے اتنی ساری روایتیں حتی باقی اصحاب سے بھی زیادہ نقل کی ھیں، چارو خلیفہ نے مل کر جو احادیث نقل کی ھیں وہ ابوھریرہ کے سامنے۲ فیصدی سے بھی کم ھیں ۔
ایسی قوی دلیلیں پائی جاتی ھیں جو کہ دونوں فرقہ کے لوگ تسلیم کرتے ھیں اور وہ موجب ھے کہ ھر اھل تحقیق باانصاف راھ اھل بیت کو اپنانے سبقت کرے، ان قوی دلیلوں کا ایک نمونہ حدیث کشتی نوح ھے، رسول اسلام فرماتے ھیں ۔ مثل اھل بیتی فیکم کمثل سفینۃ نوح من رکبھا نجی و من تخلف عنھا غرق و ھوی (مستدرک الحاکم ج ۲ ص ۳۴۲) ۔
تمھارے لئے میرے اھل بیت کی مثال کشتی نوح علیہ السلام کی ھے جو اس کشتی میں سوار ھوا نجات پا گیا اور جو سوار نھیں ھوا غرق ھوا اور ھلاک ھوگیا ۔
دوسری حدیث، حدیث ثقلین ھے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ھیں: انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا بعدی ابدا الا لن یفترقا حتی یردا علی الحوض فانظروا کیف تخلفونی فیھا ۔ میں تمھارے پاس دو بااھمیت چیزیں چھوڑے جا رھا ھوں اللہ کی کتاب اور اپنی عترت اھل بیت، اگر تم ان دونوں سے متمسک رھو گے گمراہ نھیں ھوگے اور دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوسکتے، یہاں تک مجھ سے حوض پر ملاقات کریں گے ۔ اب تم لوگ دقت کرو کہ میرے بعد ان دونوں (کتاب خدا اور میری خاندان) کے ساتھ کیا کرتے ھو ۔
رسول اللہ نے اپنے اھل بیت، فاطمہ، حسن و حسین اور ۹ امام، حسین ابن علی کی نسل سے، ان کو کشتی نوح سے تشبیہ فرمایا ھے چونکہ نجات انھیں لوگوں کے ذریعہ ممکن ھے اور بس جس طرح طوفان نوح کے وقت نجات منحصر تھی اس کشتی پر اس کے سوا کوئی پناہ گاہ، پہاڑ، بلندی میں نجات نھیں تھی ۔ رسول نے اپنے اھل بیت کو قرآن سے ملایا ھے جس کے معنی ھیں کہ یھی وہ لوگ ھیں جن کو قرآن کا علم ھے اور یھی لوگ معصوم و پاک ھیں ۔
جس طرح قرآن معصوم و پاک ھے ورنہ تشبیہ باطل ھوجائے گی مزید وضاحت کے لئے کتاب المراجعات تالیف عبد الحسین شرف الدین کے مطالعہ کی سفارش کرتا ھوں ۔ اس حدیث کی سند اور اس کے حوالہ انھوں نے ذکر کئے ھیں اور ثابت کیا ھے کہ اھل بیت احق و افضل ھیں یہ کچھ اسباب تھے جن کی وجہ سے میری آنکھوں سے پردہ ھٹا اور میں شیعہ ھوگیا ۔



تنقيد

نام :
ايميل :
مقابل کي دو گنتي کو خط ميں جوڑ کر لکھيں
4+6 =